حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی کانفرنس "تحققِ وعدۂ انتقام" کی اختتامی تقریب کل 22 جولائی کو اسلامی ثقافتی و فکری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے علامہ جعفریؒ ہال میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کا اہتمام اسلامی ثقافتی و فکری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور امام رضاؑ حوزوی کمپلیکس نے ایران کے مختلف علمی و تحقیقی اداروں کے تعاون سے کیا تھا۔
اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کی یہودی برادری کے خاخامِ اعظم یونس لالہزار حمامی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ خون کا بدلہ ایک الٰہی تصور ہے، کہا کہ توحید کے بعد سب سے اہم امر انسان کی حرمت کی حفاظت اور انسانیت کے مقام و منزلت کا احترام ہے۔
انہوں نے کہا کہ الٰہی ادیان، خصوصاً تلمود اور رسالۂ پدران کی تعلیمات کے مطابق تمام انسان ایک ہی اصل سے پیدا ہوئے ہیں، لہٰذا ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے، جبکہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔
خاخامِ اعظم نے مزید کہا کہ تورات کی متعدد آیات میں خون کے بدلے کا ذکر موجود ہے، اگرچہ انسان کامل اور حقیقی عدل قائم کرنے کی پوری صلاحیت نہیں رکھتا؛ تاہم انسانی حرمت کی حفاظت اللہ تعالیٰ کے بنیادی احکام میں سے ہے۔
انہوں نے تورات کی چند آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی کے خون کا بدلہ لینا ایک الٰہی اور انسانی فریضہ ہے۔ ہمارا ملک حالتِ امن میں تھا کہ امریکہ نے دوبارہ جارحیت کی، جس کے نتیجے میں یہ عظیم سانحہ پیش آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم کی یکجہتی، ہم آہنگی اور اتحاد نے شہید رہبر کے قاتلوں، منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کے خلاف سب سے بڑا جواب دیا، تاہم مستقبل میں ایسے ظلم کو روکنے کے لیے شہید آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہای کے خون کا بدلہ لیا جانا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ